3

میں گھر میں سب سے بڑا تھا اور میرے والد کا قتل ہوگیا۔۔۔سعید غنی کی زندگی

1

ان کے چہرے کی سختیوں پہ نا جا
دل میں آنسو چھپا کے جیتے ہیں
ایسی کئی مشہور شخصیات ہیں پاکستان میں جن کے دکھ ان کے چہرے سے عیاں نہیں ہوتے لیکن ان کی زندگی کی کہانیاں اتنی آسان نہیں۔۔۔انہوں نے نے زندگی کے بڑے بڑے دکھوں کا سامنا کیا اور آج بھی کر رہے ہیں

سعید غنی
سعید غنی پاکستانی سیاست کا ایک اہم نام ہیں جو اس دور میں جب کرونا کی وبا نے عوام کی زندگی محال کی ہے، سب سے آگے آگے رہے اور بالآخر خود ہی اس مرض کا شکار ہوگئے۔۔۔پچھلے دنوں وہ وسیم بادامی کے شو میں معصومانہ میچ کھیلنے آئے اور بات ان کے بچپن اور ماضی پر جا پہنچی۔2

سعید غنی نے بتایا کہ ان کے والد نے دو شادیاں کی تھیں اور یہ کل بارہ بہن بھائی ہیں۔۔۔سعید غنی کا نمبر سب سے پہلا ہے۔۔۔وہ اس وقت محض بیس سال کے تھے جب ان کے والد کو ٹارگٹ کلینگ میں شہید کیا گیا۔۔۔سعید غنی نے بتایا کہ میرے والد گھر دیر سے آتے تھے تو آنے کے بعد کبھی فرش پر سوجاتے تھے اور کبھی میرے کمرے کے باپر چارپائی ڈال کر۔۔۔

انتقال والی صبح جب میں آفس جانے لگا تو وہ میرے کمرے کے باہر سو رہے تھے۔۔۔میں رک گیا اور انہیں دیکھنے لگا۔۔۔ان کے سینے پر ایک چین باہر کو لٹکی تھی جو میں نے اٹھائی اور ان کے تکئے کے نیچے رکھ دی اور کچھ دیر کھڑا انہیں سوتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔ایسا زندگی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔پھر آفس چلا گیا اور وہیں اطلاع آئی کہ انہیں شہید کردیا گیا۔۔۔

گھر صرف انہی کی کمائی پر چلتا تھا اس لئے ان کے انتقال کے بعد سب کچھ بدل گیا۔۔۔سعید غنی نے کبھی سیاست میں آنے کا نہیں سوچا تھا لیکن پھر پیپلز پارٹی میں آنا پڑا ۔۔۔والد بھی نہیں چاہتے تھے کہ وہ سیاست میں آئیں لیکن حالات بدل چکے تھے۔۔۔غم کے کئی طوفان سعید غنی پر کئی بار گزرے۔۔۔۔

3

اٹھارہ اکتوبر کو سانحہ کارساز میں ان کی بیوی اور چھے ماہ کی بچی کے سامنے دھماکہ ہوا اور اس میں ان کے دو کزنز شہید ہوگئے۔۔۔یہ سب کچھ ان کی بیوی نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔۔جب بے نظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو سعید غنی نے اپنی بیٹی کا نام بدل کر بی بی شہید کے نام پر بے نظیر رکھ دیا۔۔۔ان کے دو بیٹے بھی بہت کم عمری میں دنیا سے چلے گئے۔۔۔دل میں دنیا کا درد ہے اس لئے اپنے درد چھپا لیتے ہیں۔۔۔

ان کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔۔۔بیٹی کا کہنا ہے کہ ان کے والد جو بھی بات کرتے ہیں اس میں سچ ہوتا ہے اور وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔۔۔ایک بیٹی اپنے والد کی طرح ہی سیاست کے میدان میں آنا چاہتی ہیں اور بیٹے کے دل میں سیاست کا کوئی گمان نہیں۔۔۔ان کی بیٹی نے یہ بھی بتایا کہ وہ گھر میں موجود نوکروں سے ہمیشہ تمیز سے بات کرنے کے لئے سمجھاتے ہیں۔۔۔۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: